مقصود حسنی کی نظمیں

 

Embed or link this publication

Description

مقصود حسنی کی نظمیں پیش کار پروفیسر نیامت علی مرتضائی فری ابوزر برقی کتب خانہ اگست ٢٠١٧

Popular Pages


p. 1

‫‪1‬‬ ‫مقصود حسنی کی نظمیں‬ ‫پیش ک ر‬ ‫پروفیسر نی نت ع ی مرتض ئی‬ ‫فری ابوزر برقی کت خ نہ‬ ‫اگست‬

[close]

p. 2

‫‪2‬‬ ‫فہرست‬ ‫س رستے‬ ‫میں مٹھی کیوں کھولوں‬ ‫مت پوچھو‬ ‫شبن نبضوں میں‬ ‫جینے کو تو س جیتے ہیں‬ ‫آنکھ دریچوں سے‬ ‫بنی د پرست‬ ‫پہرے‬ ‫اس سے کہہ دو‬ ‫ب قی ہے ابھی‬ ‫جیون سپن‬ ‫چ ند ا دری میں نہیں اترے گ‬ ‫س ید پرندہ‬

[close]

p. 3

‫‪3‬‬ ‫ذات کے قیدی‬ ‫ت مجھ کو سوچو گے‬ ‫س سے کہہ دو‬ ‫ب لوں میں بکھری چ ندی‬ ‫ش ہ کی لاٹھی‬ ‫اک پل‬ ‫پ کوں پر ش‬ ‫ا ج بھی‬ ‫پ گل پن‬ ‫آسم ن سے‬ ‫یہ کس کی س زش ہے‬ ‫برسر عدالت‬ ‫ک جل ابھی پھیلا نہیں‬ ‫میں مقدر ک سکندر ہوں‬ ‫آنکھوں دیکھے موس‬

[close]

p. 4

‫‪4‬‬ ‫دروازہ کھولو‬ ‫ت مرے کوئی نہیں ہو‬ ‫صدی ں بیت گئی ہیں‬ ‫س ج نتے ہیں‬ ‫تق ض‬ ‫زی دہ تر‬ ‫ت ہی کہو‬ ‫لاج‬ ‫وہ ل ظ کہ ں ہے‘ کدھر ہے‬ ‫ش عر اور غزل‬ ‫حیرت تو یہ ہے‬ ‫میں نے دیکھ‬ ‫سوچ کے گھروندوں میں‬ ‫سچ کے آنگن میں‬ ‫حی ت کے برزخ میں‬ ‫ہر گھر سے‬ ‫کس منہ سے‬

[close]

p. 5

‫‪5‬‬ ‫چل' محمد کے در پر چل‬ ‫سننے میں آی ہے‬ ‫دروازہ کھولو‬ ‫ع ری‬ ‫ایندھن‬ ‫نوحہ‬ ‫صبح ہی سے‬ ‫ج تک‬ ‫آس ست رے‬ ‫بے انت سمندر‬ ‫رات ذرا ڈھل ج نے دو‬ ‫ب رود کے موس‬ ‫سورج ڈو رہ ہے‬ ‫اپیل‬ ‫اس روز بھی‬ ‫گنگ الٹ بہنے لگی ہے‬

[close]

p. 6

‫‪6‬‬ ‫یقینی سی ب ت ہے‬ ‫پ کوں پر شبن‬ ‫چودہ اگست‬ ‫ک نچ دریچوں میں‬ ‫شہد سمندر‬ ‫وقت کیس عذا لای ہے‬ ‫ت ہی کہو‬ ‫آزاد کر‬ ‫بج ی‬ ‫یہ ہی فیص ہ ہوا تھ‬ ‫مین ر زیست‬

[close]

p. 7

7

[close]

p. 8

‫‪8‬‬ ‫س رستے‬ ‫حضور کے قدموں کی برکت تو دیکھیے‬ ‫آنکھیں جو ان کو چومتی رہیں‬ ‫تقوی میں کم ل ہوئیں‬ ‫کروفر کے لیے جلال ہوہیں‬ ‫ان پ کوں پر‬ ‫گلابوں کی مسک ن‬ ‫بدھ س دھی ن‬ ‫برہم سی ودی‬ ‫را س بل لچھمن سی ویرت‬ ‫ن نک س گی ن‬ ‫بندگی میں بے مثل بےمث ل ہوئیں‬ ‫عش کی دنی میں حضرت بلال ہویئں‬ ‫نہی پرملال ہوئی بدح ل ہوئی‬

[close]

p. 9

‫‪9‬‬ ‫اثب ت ک دروازہ کھل گی‬ ‫اب یس کے سر پر پ نی پڑ گی‬ ‫لمحوں میں بےبصر ہوا‬ ‫منہ کے بل وہ ج گرا‬ ‫ان کی دنی سے اسے نک ن پڑا‬ ‫ان آنکھوں نے ارضی خدا ں کو بندگی‬ ‫طمع کو ش کر‬ ‫ظ کو کرمکر‬ ‫ب لا کو ب لاتر‬ ‫دست زریں کو بھر دی‬ ‫دی کر بن دی‬ ‫سوالی‘ سوالی نہ رہ عط کر ہو گی‬ ‫جو آی جھولی بھر لے گی‬ ‫گوی دی ان کی دہ یز بنی‬ ‫کرپ ان کی کنیز ٹھری‬

[close]

p. 10

‫‪10‬‬ ‫شکر کے ہر شبد کو لہن دا دی م ی‬ ‫ہ ت کوئی خ لی نہ گی‬ ‫ح جت ک د گھٹ گی‬ ‫صبر کی قن تیں بچھ گئیں‬ ‫آ لے ج ک طنبو گڑ گی‬ ‫کھوٹ نصیب‬ ‫ان کے قد لگ تو عرش فقر بن‬ ‫ان کے قد چومتی آنکھوں سے ٹپکت شہد‬ ‫اجمیر بس تی رہیں گی‬ ‫شربت رحمت برس تی آنکھیں‬ ‫سیون سج تی رہیں گی‬ ‫فکر دنی مٹ تی رہیں گی‬ ‫جو حضور کے قدموں پر بچھ‬ ‫اسے فکر عقبی کیس‬ ‫حضور کے قدموں میں سچ ک سمندر بہت ہے‬

[close]

p. 11

‫‪11‬‬ ‫جس نے اک قطرہ پی لی‬ ‫زمین وآسم ن کے ف ص ے پی گی‬ ‫لامحدود ہو گی‬ ‫موت کو اس کے قد لین پڑے‬ ‫حضور کے قدموں کے بوسی کو م رنے آی‬ ‫بوسی کے قدموں ک بوسی ہوا‬ ‫مردہ تھ لمحوں میں زندہ ہوا‬ ‫زندہ ہے زندہ رہے گ‬ ‫سورگ ہو کہ جنت‬ ‫س رستے حضور کے نقش پ میں ہیں‬ ‫حضور اللہ کے ہیں‬ ‫جو حضور ک ہوا‘ اللہ ک ہوا‬ ‫حضور جدھر کو ج ئیں گے‬ ‫وہ بھی ادھر کو ج ئے گ‬ ‫بدنصیبی مٹ ت رہے گ‬

[close]

p. 12

‫‪12‬‬ ‫ن قص کو‬ ‫خ د ک رستہ دیکھ ت رہے گ‬ ‫ح سچ کے گیت گ ت رہے گ‬ ‫کوئی سنے ن سنے‘ وہ سن ت رہے گ‬

[close]

p. 13

‫‪13‬‬ ‫میں مٹھی کیوں کھولوں‬ ‫میں مٹھی کیوں کھولوں‬ ‫بند مٹھی میں کی ہے‬ ‫کوئی کی ج نے‬ ‫مٹھی کھولوں تو‬ ‫ت مرے ک رہ پ گے‬ ‫ہر سیٹھ کی سیٹھی‬ ‫اس کی گھت ی کے د سے ہے‬ ‫میں مٹھی کیوں کھولوں‬ ‫تری ی د کی خوشبو‬ ‫مری ہے مری ہے‬ ‫اس ی د کے ب طن میں‬ ‫ترے ہونٹوں پر کھ تی ک ی ں‬ ‫تری آنکھوں کی مسک نیں‬

[close]

p. 14

‫‪14‬‬ ‫بھیگی س نسوں کی مہکیں‬ ‫جھوٹے بہلاوے‬ ‫کچھ بےموس وعدے‬ ‫س تھ نبھ نے کی قسمیں‬ ‫دکھ کے نوحے‬ ‫شرا سپنوں کی قوس قزاح‬ ‫مری ہے مری ہے‬ ‫میں مٹھی کیوں کھولوں‬ ‫بند مٹھی میں کی ہے‬ ‫کوئی کی ج نے‬

[close]

p. 15

‫‪15‬‬ ‫مت پوچھو‬ ‫بن ترے کیسے جیت ہوں‬ ‫مت پوچھو‬ ‫اڈیکوں کے ظ ل موس میں‬ ‫س نسوں ک آن ج ن کیسے ہوت ہے‬ ‫مت پوچھو‬ ‫س ون رت میں‬ ‫آنکھوں کی برکھ کیسے ہوتی ہے‬ ‫مت پوچھو‬ ‫چ ہت کی مدوا پر‬ ‫خود غرضی ک لیبل ج بھی لگت ہے‬ ‫راتوں کی نیندیں ڈر ج تی ہیں‬ ‫آشکوں کے ت رے‬ ‫س رے کے س رے‬

[close]

Comments

no comments yet